Ziyarat-e-Ashura in Urdu Script Translation

Ziyarat-e-Ashura is a sacred tradition (Hadees-e-Qudsi) whose references can be found in Misbah al-Mutahajjid by Shaykh al-Tusi and Kamil al-Ziyarat by Ibn Qulawayh.

iyarat-e-Ashura in Urdu Script Translation

In expressing veneration and seeking higher levels of peace for Imam Husain (AS), we are trying to unite with his ideas, thoughts and towering volition, and in cursing his opponents who overtly declared themselves to be muslims and believers, but were extensions of hypocrites , we are trying to flee from all their ideas, thoughts and actions. Hence this recital of Ziyarat Ashura seeks to unite the reciter with the sacred spirit of Imam Husain (AS)




زيارة عاشوراء

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ
سلام ہو آپ پر اے ابو عبد الله الحسین
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ
سلام ہو آپ پر اے فرزند رسول خدا
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ ابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ
سلام ہو آپ پر اے فرزند امیر المومنین (ع)اور اے فرزند سردار اوصیاء کے
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ فَاطِمَةَ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
سلام ہو آپ پر اے فرزند فاطمہ زہرا (ع) جو سردار ہیں تمام خواتین عالم کی،
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ثَارَ اللَّهِ وَ ابْنَ ثَارِهِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ
سلام ہو آپ پر اے وہ بزرگوار جس کے خون کا طالب خدا ہے اور فرزند بھی اسکے جسکے خون کا طالب خدا ہے اور جو مظلوم اور مصیبت زدہ ہوا
السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَى الْأَرْوَاحِ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَائِكَ عَلَيْكُمْ مِنِّي جَمِيعاً سَلاَمُ اللَّهِ أَبَداً مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ
سلام ہو آپ پر اور ان روحوں پر جو اتریں آپ کے مبارک صحن میں ! آپ سب حضرات پر میری جانب سے سلام خدا ہو ہمیشہ جب تک کہ میں زندہ رہوں اور رات دن باقی رہیں!
يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِيَّةُ وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتِ الْمُصِيبَةُ بِكَ (بِكُمْ) عَلَيْنَا وَ عَلَى جَمِيعِ أَهْلِ الْإِسْلاَمِ
اے ابو عبد الله الحسین (ع) بتحقیق کہ بہت عظیم ہوئی بلا آپ کی اور بہت سخت ہوئی مصیبت آپ کی، ہم پر اور تمام اہل اسلام پر
وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتْ مُصِيبَتُكَ فِي السَّمَاوَاتِ عَلَى جَمِيعِ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ
اور بہت عظیم ہوئی مصیبت آپ کی آسمانوں میں اور تمام اہل آسمان پر
فَلَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ
پس لعنت کرے خدا اس گروہ پر جس نے سنگ بنیاد قائم کی ظلم و جور کی آپ اہلبیت پر
وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً دَفَعَتْكُمْ عَنْ مَقَامِكُمْ وَ أَزَالَتْكُمْ عَنْ مَرَاتِبِكُمُ الَّتِي رَتَّبَكُمُ اللَّهُ فِيهَا
اور لعنت کرے خدا اس گروہ پر جس نے آپ حضرات کو آپ حضرات کے مقام سے ہٹایا اور دور کرنا چاہا آپ حضرات کو ان مراتب سے جن کو خدا نے آپ حضرات کے لئے ثابت کیا ہے
وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً قَتَلَتْكُمْ وَ لَعَنَ اللَّهُ الْمُمَهِّدِينَ لَهُمْ بِالتَّمْكِينِ مِنْ قِتَالِكُمْ
اور لعنت کرے خدا اس گروہ پر جس نے آپ کو قتل کیا اور لعنت کرے خدا اس گروہ پر جنہوں نے اسباب مہییا کئے آپ کے قتل پر قادر ہونے کی
بَرِئْتُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَيْكُمْ مِنْهُمْ وَ (مِنْ) أَشْيَاعِهِمْ وَ أَتْبَاعِهِمْ وَ أَوْلِيَائِهِمْ
بریت چاھتا ہوں میں خدا کے ذریعے سے اور آپ کے ذریعے ان لوگوں سے اور ان کی پیروی کرنے والوں سے اور ان کی تابعداری کرنے والوں سے اور ان کے دوستوں سے!
يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
اے مولا میرے اے ابو عبد الله الحسین (ع) میں صلح کرنے والا ہوں ہر اس شخص سے جو آپ سے صلح کرے اور جنگ کرنے والا ہوں ہر اس شخص سے جو آپ سے جنگ کرے روز قیامت تک
وَ لَعَنَ اللَّهُ آلَ زِيَادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ وَ لَعَنَ اللَّهُ بَنِي أُمَيَّةَ قَاطِبَةً وَ لَعَنَ اللَّهُ ابْنَ مَرْجَانَةَ
اور لعنت کرے خدا اولاد زیاد اور آل مروان پر اور لعنت کرے خدا تمام بنی امیہ پر اور لعنت کرے خدا پسر مرجانہ پر
´وَ لَعَنَ اللَّهُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ لَعَنَ اللَّهُ شِمْراً (شَمِراً
اور لعنت کرے خدا عمر بن سعد پر اور لعنت کرے خدا شمر پر
وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً أَسْرَجَتْ وَ أَلْجَمَتْ وَ تَنَقَّبَتْ لِقِتَالِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي
اور لعنت کرے خدا اس گروہ پر جس نے زین اپنی سواریوں پر رکھا اور نجام لگائی اور نقاب باندھی اور قصد کیا آپ کے قتل کرنے کا، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں
لَقَدْ عَظُمَ مُصَابِي بِكَ فَأَسْأَلُ اللَّهَ الَّذِي أَكْرَمَ مَقَامَكَ وَ أَكْرَمَنِي (بِكَ
بہ تحقیق کہ شدید ہوئی مصیبت مجھ پر آپ کے قتل کی وجہ سے پاس میں سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے بزرگ کیا آپ کے مقام کو اور عزت دی مجھ کو آپ کے سبب سے
أَنْ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِكَ مَعَ إِمَامٍ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ
کہ نصیب کرے مجھ کو طلب کرنا حق آپکے خون کا اس امام کے ساتھ جو منصور ہے اور اہلبیت مصطفیٰ (ص) سے ہے، صلوات بھیجے خدا ان پر اور ان کی آل پر
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي عِنْدَكَ وَجِيهاً بِالْحُسَيْنِ عليه السلام فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ
خدا وندا قرار دے تو مجھے اپنے نزدیک سرخروئی حضرت امام حسین علیھ السلام کے ساتھ دنیا و آخرت میں،
يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَى رَسُولِهِ وَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ
اے ابو عبد الله الحسین (ع) میں تقرب چاھتا ہوں بارگاہ خدا اور رسول خدا (ص) اور حضرت امیر المومنین (ع)
وَ إِلَى فَاطِمَةَ وَ إِلَى الْحَسَنِ وَ إِلَيْكَ بِمُوَالاَتِكَ
اور حضرت فاطمہ زہرا (ع) اور حضرت امام حسن (ع) اور آپ کی جناب میں آپ کی محبّت کے سبب سے
وَ بِالْبَرَاءَةِ (مِمَّنْ قَاتَلَكَ وَ نَصَبَ لَكَ الْحَرْبَ وَ بِالْبَرَاءَةِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَيْكُمْ
اور بیزاری سے ان لوگوں کی جنہوں نے آپ کے ساتھ قتال کیا اور قائم کیا آپ سے جنگ کو اور ان لوگوں کو بیزاری کی وجہ سے جنہوں نے قائم کیا بنیاد ظلم و ستم کو، آپ حضرات پر
وَ أَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَى رَسُولِهِ) مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ ذَلِكَ وَ بَنَى عَلَيْهِ بُنْيَانَهُ
اور بیزاری کرتا ہوں درگاہ خدا میں اور بارگاہ رسالتمآب میں ان لوگوں سے جنہوں نے اسکی بنیاد ڈالی اور اس کو مستحکم کرتے رہے اور قائم رہے آپ حضرات پر ظلم و ستم کرنے پر
وَ جَرَى فِي ظُلْمِهِ وَ جَوْرِهِ عَلَيْكُمْ وَ عَلَى أَشْيَاعِكُمْ بَرِئْتُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَيْكُمْ مِنْهُمْ
اور آپ حضرات کی پیروی کرنے والوں پر، بیزاری کرتا ہوں میں خدا کی طرف اور آپ کی طرف ان لوگوں سے
وَ أَتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ إِلَيْكُمْ بِمُوَالاَتِكُمْ وَ مُوَالاَةِ وَلِيِّكُمْ
اور تقرب چاھتا ہوں میں خدا کی طرف پھر آپ حضرت کی طرف، آپ حضرات کی دوستی سے اور آپ کے دوستوں کی دوستی سے
وَ بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَعْدَائِكُمْ وَ النَّاصِبِينَ لَكُمُ الْحَرْبَ وَ بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَشْيَاعِهِمْ وَ أَتْبَاعِهِمْ
اور بیزاری سے آپ حضرات کے دشمنوں سے اور ان لوگوں سے جنہوں نے آپ حضرات سے جنگ کی اور بیزاری سے ان ا پیروی کرنے والوں سے اور ان کے اتباع کرنے والوں سے
إِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ وَ وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاَكُمْ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاكُمْ
میں صلح کرنے والا ہوں ہر اس شخص سے جو آپ سے صلح کرنے والا ہو اور جنگ کرنے والا ہوں جو آپ حضرات سے جنگ کرے اور دوست ہوں اس شخص کا جو آپ حضرات کو دوست رکھے اور دشمن ہوں ہر اس شخص کا جو آپ حضرات سے دشمنی رکھے
فَأَسْأَلُ اللَّهَ الَّذِي أَكْرَمَنِي بِمَعْرِفَتِكُمْ وَ مَعْرِفَةِ أَوْلِيَائِكُمْ وَ رَزَقَنِي الْبَرَاءَةَ مِنْ أَعْدَائِكُمْ
پاس میں سوال کرتا ہوں اس خدا سے جس نے مجھے بزرگی عطا فرمائی آپ کی معرفت کی وجہ سے اور آپ کے دوستوں کی معرفت کی وجہ سے اور نصیب کیا بیزاری کرنا آپ کے دشمنوں سے
أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَكُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أَنْ يُثَبِّتَ لِي عِنْدَكُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ
یہ کہ قرار دے مجھ کو آپ حضرات کے ساتھ دنیا و آخرت میں اور یہ کہ ثابت قدم رکھے مجھ کو آپکی محبّت میں سچائی کے ساتھ دنیا و آخرت میں
وَ أَسْأَلُهُ أَنْ يُبَلِّغَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ
اور سوال کرتا ہوں میں خدا سے کہ پہنچائے مجھ کو مقام محمود میں جو آپ حضرات کے لئے خدا کے نزدیک ہے
وَ أَنْ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِي (ثَارَكُمْ) مَعَ إِمَامٍ هُدًى (مَهْدِيٍّ) ظَاهِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْكُمْ
اور یہ کہ خدا نصیب کرے مجھے کو طلب کرنا حق آپ کے خون کے ساتھ حضرت امام مہدی (ع) آخر الزماں کے جو ظاہر ہونے والے ہیں گویا ہونے والے ہیں حق کے ساتھ جو آپ میں سے ہیں
وَ أَسْأَلُ اللَّهَ بِحَقِّكُمْ وَ بِالشَّأْنِ الَّذِي لَكُمْ عِنْدَهُ أَنْ يُعْطِيَنِي بِمُصَابِي بِكُمْ أَفْضَلَ مَا يُعْطِي مُصَاباً بِمُصِيبَتِهِ
اور میں سوال کرتا ہوں میں خدا سے واسطہ دے کر آپ حضرات کا اور آپ حضرات کی اس شان کا جو اس کے نزدیک ہے یہ کہ اتا کرے اجر مجھ کو آپ کی مصیبت میں بہتر اس اجر سے جو دیگا کسی مصیبت زدہ کو اس کی مصیبت کا
مُصِيبَةً مَا أَعْظَمَهَا وَ أَعْظَمَ رَزِيَّتَهَا فِي الْإِسْلاَمِ وَ فِي جَمِيعِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ (الْأَرَضِينَ)
کس قدر عظیم ہے آپ کی اور بڑی ہے بلا اس کی اسلام میں اور تمام اہل آسمانوں اور اہل زمین پر
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِي مَقَامِي هَذَا مِمَّنْ تَنَالُهُ مِنْكَ صَلَوَاتٌ وَ رَحْمَةٌ وَ مَغْفِرَةٌ
خدا وندا قرار دے مجھ کو اس مقام میں ان لوگوں سے جن کو حاصل ہوتی ہے تیری بارگاہ سے رحمت اور برکت مغفرت
اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَحْيَايَ مَحْيَا مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ مَمَاتِي مَمَاتَ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
خدا وندا قرار دے میری زندگی محمّد (ص) و آل محمّد (ع) کے ساتھ اور میری موت کو موت محمّد (ص) و آل محمّد (ع) کے ساتھ
اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ تَبَرَّكَتْ بِهِ (فِيهِ) بَنُو أُمَيَّةَ وَ ابْنُ آكِلَةِ الْأَكْبَادِ
خدا وندا یہ وہ دن ہے جب کو بنی امیہ نے برکت کا دن قرار دیا ہے
اللَّعِينُ ابْنُ اللَّعِينِ عَلَى (لِسَانِكَ) وَ لِسَانِ نَبِيِّكَ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)
اور بیٹے نے زن جگر خوارہ کے جو ملعون ہے اور بیٹا ہے ملعون کا، تیرے قول سے اور تیرے نبی (ص) کے قول سے
فِي كُلِّ مَوْطِنٍ وَ مَوْقِفٍ وَقَفَ فِيهِ نَبِيُّكَ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ)
صلوات خدا ہو ان کی آل پر ہر محل وقوع اور جائے قیام میں جس میں قیام کیا تیرے نبی نے صلوات خدا ہو ان پر اور انکی آل پر
اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا سُفْيَانَ وَ مُعَاوِيَةَ وَ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ مِنْكَ اللَّعْنَةُ أَبَدَ الْآبِدِينَ
خدا وندا لعنت کر ابو سفیان پر اور معاویہ پر جو بیٹا ہے ابو سفیان کا اور یزید جو بیٹا ہے معاویہ کا اور ان سب پر تیری طرف سے لعنت ہو ہمیشہ ہمیشہ
وَ هَذَا يَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زِيَادٍ وَ آلُ مَرْوَانَ بِقَتْلِهِمُ الْحُسَيْنَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ (عَلَيْهِ السَّلاَمُ)
اور یہ وہ دن ہے کہ اس دن خوشی کی آل زیاد نے، اور آل مروان نے قتل کرنے سے امام حسین (ع) کو
اللَّهُمَّ فَضَاعِفْ عَلَيْهِمُ اللَّعْنَ مِنْكَ وَ الْعَذَابَ (الْأَلِيمَ)
خدا وندا زیادہ کر ان سب پر لعنت کو اور عذاب کو
اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَ فِي مَوْقِفِي هَذَا وَ أَيَّامِ حَيَاتِي
خدا وندا میں تقرب چاہتا ہوں تیری بارگاہ میں آج کے دن اور اپنے اس جائے قیام میں اور اپنے تمام ایام زندگی میں، یہ سبب بیزاری کرنے ان ملعونوں کے اور ان سب پر لعنت کرنے کی وجہ سے
بِالْبَرَاءَةِ مِنْهُمْ وَ اللَّعْنَةِ عَلَيْهِمْ وَ بِالْمُوَالاَةِ لِنَبِيِّكَ وَ آلِ نَبِيِّكَ (عَلَيْهِ وَ) عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ
اور یہ سبب دوستی کے تیرے نبی کے اور تیرے نبی کی آل کے ان سب حضرات پر سلام ہو
سو (١٠٠) مرتبہ کہے :
اللَّهُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ آخِرَ تَابِعٍ لَهُ عَلَى ذَلِكَ
خدا وندا لعنت کر تو پہلے ظلم کرنے والے پر جس نے چھینا حق محمّد مصطفیٰ (ص) کا اور ان کی آل کا اور آخر تک کرنے والوں پر اس کے ظلم میں،
اللَّهُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِي (الَّذِينَ) جَاهَدَتِ الْحُسَيْنَ وَ شَايَعَتْ وَ بَايَعَتْ وَ تَابَعَتْ (تَايَعَتْ) عَلَى قَتْلِهِ اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمِيعاً
خدا وندا لعنت کا تو ان لوگوں پر جنہوں نے جنگ کی حضرت امام حسین (ع) سے اور پیروی کی جنگ کرنے والوں کی اور بیعت کی اور پیروی کی آنحضرت کے قتل پر، خدا وندا سبھوں پر لعنت کر
پھر سو (١٠٠) مرتبہ کہے:
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَ عَلَى الْأَرْوَاحِ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَائِكَ
سلام ہو آپ پر اے ابو عبد الله الحسین (ع) اور ان روحوں پر جو نازل ہوئیں آپ کے صحن خانہ میں اور مقیم ہیں آپ کے روضۂ اقدس میں
عَلَيْكَ مِنِّي سَلاَمُ اللَّهِ أَبَداً مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ
میری طرف سے سلام خدا ہو ہمیشہ جب تک کہ میں زندہ ہوں اور روز و شب باقی ہیں
وَ لاَ جَعَلَهُ اللَّهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّي لِزِيَارَتِكُمْ (لِزِيَارَتِكَ)
اور قرارنہ دے خدا میری اس زیارت کو آپ کی آخری زیارت
السَّلاَمُ عَلَى الْحُسَيْنِ وَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (وَ عَلَى أَوْلاَدِ الْحُسَيْنِ ) وَ عَلَى أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ
سلام ہو میرے مولا امام حسین (ع) پر اور شہزادہ علی اکبر (ع) پر، پسر امام حسین (ع) پر اور جملہ اولاد امام حسین (ع) پر اور اصحاب امام حسین (ع) پر -
اللَّهُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ ظَالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّي وَ ابْدَأْ بِهِ أَوَّلاً ثُمَّ (الْعَنِ) الثَّانِيَ وَ الثَّالِثَ وَ الرَّابِعَ
خدا وندا مخصوص کر تو پہلے ظالم کو میری طرف سے لعنت کے ساتھ اور ابتداء کر پہلے اسی ظالم سے پھر دوسرے پر پھر تیسرے پر پھر چوتھے پر
اللَّهُمَّ الْعَنْ يَزِيدَ خَامِساً وَ الْعَنْ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ وَ ابْنَ مَرْجَانَةَ
خدا وندا لعنت کر تو یزید بن معاویہ ملعون پانچویں پر، اور لعنت کر عبید الله بن زیاد پر جو بیٹا ہے مرجانہ کا
وَ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ شِمْراً وَ آلَ أَبِي سُفْيَانَ وَ آلَ زِيَادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
اور عمر بن سعد پر اور شمر ملعون پر اور اولاد ابو سفیان پر اور آل زیاد پر اور آل مروان پر اور تمام بنی امیہ پر تا قیامت-
في السجود قرأت عن هذه:
پھر سجدے میں جائیں اور کہیں :
اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاكِرِينَ لَكَ عَلَى مُصَابِهِمْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى عَظِيمِ رَزِيَّتِي
خدا وندا سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں اور ان شکر کرنے والوں کی جنہوں نے تیری حمد کی اپنی مصیبت پر
اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَفَاعَةَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُودِ
تمام تعریفیں خدا ہی کے لئے ہیں مجھ کو شفاعت حضرت امام حسین (ع) کی قیامت کے دن
وَ ثَبِّتْ لِي قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَكَ مَعَ الْحُسَيْنِ وَ أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ الَّذِينَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَيْنِ عليه السلام
ثابت قدم رکھ سچائی پر مجھ کو اپنے نزدیک ہمراہ امام حسین (ع) اور اصحاب آنحضرت کے جنہوں نے اپنی جانیں دے دیں حضرت امام حسین (ع) کے سامنے ان کی نصرت میں